خیبر پختونخواہ میں مختلف تاریخی دور کے آثار

 

 

 

Advertisements

پشاور کی تاریخی مہابت خان مسجد بحالی کی منتظر

Mahabat Khan's Mosque

 

سیٹھی ہاؤس پشاور ایک نایاب تعمیراتی عجوبہ

پشاور کے ’’گھنٹہ گھر بازار‘‘ سے چند قدم آگے ’’محلہ سیٹھیاں‘‘ ہے جہاں کی عمارات قدیم طرز تعمیر کے حوالے سے ایک تہذیبی اور تاریخی اہمیت کی حامل ہیں۔ محلہ سیٹھیاں کی وجہ تسیمہ قیام پاکستان سے قبل یہاں آ کر آباد ہونے والے سیٹھی خاندان ہے۔ اپنے عہد کے امیر ترین سیٹھیوں نے پشاور میں اپنی رہائش گاہوں کی تعمیر کے لیے دور دراز ریاستوں سے نہ صرف ماہر کاریگروں کو بلوایا بلکہ انہوں نے اپنی رہائش گاہوں کی تزئین و آرائش میں بھی کوئی کسر اٹھا نہ رکھی اور وسط ایشیائی ریاستوں سے آرائش سامان بھی منگوایا۔ ’’سیٹھی خاندان‘‘ کی بنائی ہوئی عمارتیں دیکھنے کے لائق ہیں۔

 

ان گھروں کی تعمیر میں لکڑی کا کام دو طرح کا ہے ایک میں لکڑی پر کندہ گل بوٹے ہیں اور نہایت ہی نفیس آرپار کی جالیاں ہیں جبکہ دوسری قسم میں لکڑی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کو جوڑ کر دروازوں اور چوکھٹوں کو سجایا گیا ہے ان گھروں میں چار پائیوں کے پایوں سے لے کر نعمت خانے (جالی کی بنی ہوئی الماری جو باورچی خانے میں استعمال ہوتی ہے) تک اور گھروں کے صدر دروازے، روشن دان اور پنجالیوں، اور چھت پر لگے ہوئے شہتیروں، چینی خانوں کے فریموں اور دیواروں میں لگی ہوئی الماریوں سمیت ایک ایک انچ بڑی مہارت اور کمال فن سے تراشی گئی ہے۔ سیٹھیوں کے گھروں کی ایک اور خاص بات ان مکانات کے وسط میں بنے ہوئے کشادہ صحن ہیں ان گھروں کی تعمیر اور اینٹوں کی چنائی وغیرہ کے لیے جو مسالا استعمال کیا گیا ہے اسے ’’گچ‘‘ کہتے ہیں جو لاکھ اور چونے کا آمیزہ ہوتا ہے اور اس میں روئی یا پٹ سن کا ریشہ بھی ملایا جاتا ہے۔

پشاور کی قدیم تعمیرات میں دو طرح کی اینٹوں کے نمونے ملتے ہیں ایک قسم کو’’بادشاہی اینٹ‘‘ کہا جاتا ہے جو ایک سے ڈیڑھ فٹ لمبی ہوتی ہے عام طور پر ان اینٹوں کا استعمال بڑی دیواروں کی چنائی میں ملتا ہے دوسری قسم کی اینٹ کو ’’وزیری‘‘ کہا جاتا ہے جو زیادہ سے زیادہ چھ انچ لمبی، تین انچ چوڑی اور اس کی موٹائی ایک سے ڈیڑھ انچ تک ہوتی ہے یہ اینٹ نفیس کا موں کے لیے استعمال کی جاتی تھی۔ سیٹھی گھروں میں یہی وزیری اینٹ کا استعمال بہ کثرت کیا گیا ہے۔ جو اس بات کی بھی دلیل ہے کہ ان گھروں کی تعمیر میں کس قدر نفاست کا خیال رکھا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ 1880ء سے 1901ء کے درمیان تعمیر ہونے والے مکانات کی شان و شوکت اور رعب و دبدبہ آج بھی ’’محلہ سیٹھیاں‘‘ سے گزرنے والوں کے قدم تھام لیتا ہے۔

پشاور کے امیر ترین خاندان’’سیٹھیوں‘‘ نے اپنی کثیر مال و دولت صرف اپنی ذاتی رہائش گاہوں کی تعمیر پر ہی صرف نہیں کی بلکہ انہوں نے پشاور میں کئی مساجد کی تزئین و آرائش اور ضروری تعمیر و مرمت کے لیے بھی وقتاً فوقتاً مالی معاونت کی تھی۔ جس کا ایک نمونہ محلہ سیٹھیاں میں موجود پانچ سو نمازیوں کے لیے بنائی جانے والی مسجد سیٹھیاں ہے علاوہ ازیں انقلاب روس سے پہلے سیٹھی کریم بخش نے پشاور سے چند میل کے فاصلے پر ایک باغ تعمیر کروایا تھا اب اس باغ کے آثار نہیں ملتے لیکن آج بھی اس علاقے میں اس باغ کے حوالے سے لوگوں کی یاداشتیں اس کی شان و شوکت کا نقشہ کھینچتی ہیں۔ سیٹھی خاندان کے عمدہ ذوق تعمیر کا منہ بولتا ثبوت یہ عمارتیں آج کے پشاور کی پہچان ہیں۔

جس کی تحفظ اور بقاء کے لیے حکومتی سطح پر کی جانے والی کوششوں میں تیزی لانے کی ضرورت ہے لکڑی پر بنے بیل بوٹے اور دیواروں پر کاشی گری کے نمونوں سے گزر کر دروازوں اور کھڑکیوں میں لگے رنگ برنگے شیشوں سے منعکس ہوتی ہوئی روشن صبح پشاور کے نور کو رنگوں میں ڈھال کر مزید خوبصورت کر دیتی ہے کیا ہی اچھا ہو کہ پشاور کی چمک دمک اور یہاں کے باسیوں کے ذوق کی عکاسی کرنے والے ان شاہ کاروں کو موسمی شدتوں سے بچانے کے ساتھ ساتھ دیگر سنجیدہ اقدامات بھی کیے جائیں جو نہ صرف سیاحت کے نکتہ نگاہ سے لازمی ہیں بلکہ ’’اصل پشاور‘‘ کو اپنے ماضی سے قائم رشتوں کے لیے بھی تقویت کا باعث بن سکتے ہیں۔ ایسا اس لیے ضروری ہے کہ ملک سے محبت کا فروغ اپنی تاریخ و ثقافت اور تہذیب و تمدن سے جڑی محبتوں کے استحکام کے بناء ناممکن ہے۔

شیخ نوید اسلم

(’’پاکستان کے آثارِ قدیمہ ‘‘سے ماخوذ)

Flower market in Peshawar, Pakistan

Pakistani vendors sell garlands at a flower market in Peshawar, Pakistan.

The International Student Day in Peshawar

Boys attend school a day ahead of the International Student Day in Peshawar.

Hard working carpet cleaners in Peshawar, Pakistan

A boy transport dry carpets on a push-cart after washing them at a workshop in Peshawar, Pakistan.

خیبر سفاری ریلوے : انجینئرنگ کا غیر معمولی کارنامہ

KhyberRailway_02.jpgخیبر ریلوے کی اپنی منفرد تاریخ ہے، جسے 1925ء میں برطانوی حکومت نے اپنے فوجیوں کی نقل و حرکت کے لیے سستے ذریعہ سفر کی حیثیت سے متعارف کرایا۔ انگریزوں نے ریلوے لائن کی نگرانی کے لیے شاہ گئی اور لنڈی کوتل میں دو اہم قلعے اور کئی واچ سٹیشن بنوائے۔ ریلوے لائن کی تعمیر انجینئرنگ کا غیر معمولی کارنامہ ہے ۔ شروع میں ہفتے میں ایک بار عوام کے لیے ریل چلتی تھی۔ پشاور سے جمرود تک سفر کا پہلا مرحلہ آسان ہے کیونکہ یہاں زیادہ تر میدانی پہاڑی علاقہ ہے، لیکن جمرود سے آگے طورخم سرحد تک 27 میل کا سفر انتہائی دشوار گزار چڑھائی پر مبنی ہے۔ اس دوران ٹرین 34 سرنگوں سے گزرتی ہے، جن میں ایک کا مرہ تنگی سرنگ بہت طویل ہے۔ سفر کے دوران خوبصورت وادیاں بھی آتی ہیں اور سنگلاخ چٹانیں بھی۔ انتہائی بلندی کی وجہ سے یہاں ٹرین کے آگے اور پیچھے دو انجن لگائے جاتے ہیں۔

low_road_bridge-rz

شروع میں پیدل یا خچر اور اونٹ پر سواری کے علاوہ ٹرین ہی درہ خیبر کو پار کرنے کا واحد راستہ تھا۔ درہ خیبر کے سفر کا آغاز پشاور کینٹ کے ریلوے سٹیشن سے ہوتا ہے۔ ریل یا سڑک کے راستے سنگلاخ پہاڑوں میں درہ خیبر کا سفر ایک ولولہ انگیز تجربہ ہے۔ آپ کو جگہ جگہ کندھے پر بندوق رکھے آفریدی یا شنواری نظر آئیں گے۔ صدیوں پرانے سنگلاخ نشیب و فراز پر مقامی قبائلی خچروں پر سامان لادے آج بھی رواں دواں دیکھے جاسکتے ہیں۔ راستے میں بلند و بالا دیواروں اور حفاظتی ٹاوروں میں گھرے گاؤں بھی آئیں گے جبکہ نیچے شفاف پانی کی شور مچاتی ندی بہتی ہے ،جو قبائلیوں کی جنگوں اور حملہ آوروں کے زخموں کی کہانی سناتی ہے۔ حفاظتی ٹاوروں میں موجود خاصہ دار (لیوی گارڈ ) مسافروں کے محفوظ سفر کے ضامن ہیں اور ان کی موجودگی قبائلیوں اور برطانوی حکومت کے معاہدے کی یاد دلاتی ہے۔ سفاری ٹرین کے آخری سٹیشن لنڈی خانہ سے طور خم بارڈ کا نظارہ کیا جاسکتا ہے۔ عالمی سطح پر معروف امریکا کے ٹائم میگزین کے ٹوکیو سے شائع ہونے والے ایشیا ایڈیشن میں پاکستان میں پشاور سے لنڈی کوتل تک چلنے والی ’’خیبر سفاری ٹرین‘‘ کو دنیا کی سب سے پرُوقار ٹور ریسٹ ریل گاڑیوں میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔

 یہ بات میگزین کے رپورٹر پال تھیروکس نے اپنے ایک آرٹیکل میں ذاتی تجربات بیان کرتے ہوئے بتائی ،جو ٹائم میگزین کے سالانہ شمارے میں چھپی۔ مضمون نگار کے مطابق ایشیا کی پانچ پروقار گاڑیاں بالترتیب ’’خیبر سٹیم سفاری پاکستان ’’پیلس آن دی وہیلز، بھارت،فسیٹری کوئین، انڈیا‘‘ ’’ایسٹرن انیڈ اورنٹیل ایکسپریس، نیوزی لینڈ‘‘ اور ’’شنکاسن جاپان‘‘ شامل ہیں۔ خیبر سٹیم سفاری، دلچسپی کے اعتبار سے اپنی نوعیت کا منفرد سفر ہے ،جس کا اہتمام پاکستان ریلوے سرحد ٹورازم کارپوریشن اور صحرائی ٹریولز پشاور کے مشترکہ اشتراک سے کیا جاتا ہے۔ اب تک اس ٹرین سے سینکڑوں بین الاقوامی اور مقامی سیاح سفر کر چکے ہیں۔

شیخ نوید اسلم

پاکستان کی سیر گاہیں

 

A man inspects a Ferris wheel at a public park in Sardaryab, Charsadda

39D6DF75-1A5B-4C96-91CC-348388E71CF5_w987_s_sA man inspects a Ferris wheel at a public park in Sardaryab, Charsadda, on the outskirts of Peshawar, Pakistan.

چپلی کباب خیبر پختونخوا کی پہچان

پاکستان کے کچھ چھوٹے بڑے شہر اپنے روایتی لذیذ کھانوں اور منفرد پکوانوں کی وجہ سے دنیا بھر میں شہرت رکھتے ہیں اور ان میں سے کچھ کی پہچان ہی وہ پکوان بن گئے ہیں۔ پشاور اور اس کے آس پاس واقع علاقوں کے کھانوں کا ذکر ہو اور سب سے پہلے چپلی کباب کا نام ذہن میں نہ آئے یہ ممکن ہی نہیں۔ چپلی کباب جسے صوبے کی روایتی خوراک بھی کہا جاتا ہے عام طور پر گائے یا بیل کے گوشت کے قیمے میں مخصوص مصالحہ جات ملا کر بنایا جاتا ہے۔ خیبر پختونخوا کے چپلی کباب کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں گائے یا دنبے کی تازہ چربی کا استعمال بھی ہوتا ہے اور بعض علاقوں میں اس کے لیے خصوصی طور پر دنبے کی چرخی (لم) کی چربی استعمال کی جاتی ہے۔
خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں کے چپلی کباب کے اپنے الگ الگ ذائقے کی وجہ سے مقبول ہیں لیکن نوشہرہ کے علاقے تاروجبہ کے چپلی کبابوں کو اپنے مخصوص ذائقے کے باعث ایک خاص مقام حاصل ہے۔ تاروجبہ بنیادی طور پر ایک دیہاتی علاقہ ہے لیکن یہاں کے چپلی کباب کی مانگ نے اسے گاؤں کو کھانے پینے کے شوقین افراد کی ایک مستقل منزل بنا دیا ہے۔ پشاور سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر جی ٹی روڈ پر واقع اس چھوٹے سے بازار میں چپلی کباب کی پانچ دوکانیں قریب قریب قائم ہیں جہاں دن رات لوگوں کا رش رہتا ہے۔ مرکزی شاہراہ پر واقع ہونے کی وجہ سے یہ مسافروں کا ایک عارضی پڑاؤ بھی ہے جبکہ اس کے علاوہ لوگ یہاں خصوصاً چپلی کباب کھانے بھی آتے ہیں اور روایتی ماحول میں چارپائیوں پر بیٹھ کر ان کا مزا لیتے ہیں۔
تاروجبہ میں واقع ایک کباب ہاؤس کے مالک نسیم گل نے بتایا کہ’ ہم روزانہ ایک یا دو بیل ذبح کرتے ہیں اور تقریباً چار من تک کباب فروخت ہوتے ہیں۔’ ان کا کہنا تھا کہ چپلی کباب اس صوبے کی پہچان بن چکے ہیں اور اب یہ پاکستان کے مختلف شہروں کے ساتھ ساتھ بیرونِ ممالک بھی جاتے ہیں جس میں سعودی عرب اور خلیجی ممالک قابل ذکر ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اسلام آباد اور پنجاب کے مختلف شہروں سے آنے والے لوگ روزانہ چالیس سے پچاس کلو چپلی کباب ساتھ لے کر جاتے ہیں۔ چپلی کباب کو ایک گرم خوراک سمجھا جاتا ہے لیکن موسم سے قطع نظر ان دکانوں پر سارا سال ہی رش رہتا ہے۔ ان کے بقول ‘سردیوں میں تو ہماری مارکیٹ میں اتنا رش ہوتا ہے کہ مشکل ہی سے کباب پورا ہوتا ہے اور ہمارے پاس بعض اوقات جگہ کم پڑجاتی ہے اور کبھی کبھی تو لوگوں کو کباب کھائے بغیر بھی جانا پڑتا ہے۔’ 
ایک عام شخص عموماً آدھا کلو کباب کھاتا ہے لیکن یہاں آنے والے کچھ افراد ایک وقت میں دو کلو تک کباب کھا جاتے ہیں۔ تاروجبہ میں چپلی کباب کھانے کے لیے آنے والے علی حیدر نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ان کا جو بھی مہمان علاقے میں آتا ہے اس کی سب سے پہلی فرمائش کباب کھانے کی ہوتی ہے۔ ‘ہفتہ دو ہفتوں میں شاید ہی کوئی ایسا موقع آیا ہو کہ میرے مہمان خصوصی طور پر کباب کھانے نہ آئے ہوں۔’ کباب کی دکان پر موجود ایک اور شخص ساجد اللہ کا کہنا تھا کہ چپلی کباب خیبر پختونخوا کے عوام کی پسندیدہ خوراک تو ہے ہی لیکن اب یہ پشتونوں کی ایک ثقافتی نشانی بھی بنتی جا رہی ہے۔ ‘جس طرح نہاری،حلیم، بریانی اور سجی کراچی ، لاہور اور بلوچستان کی پسندیدہ کھانے ہیں ایسا ہی چپلی کباب بھی ہے جو ہمارے علاقے کی پہچان ہے۔’
رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام تاروجبہ، نوشہرہ

خیبر سفاری ریلوے : انجینئرنگ کا غیر معمولی کارنامہ

خیبر ریلوے کی اپنی منفرد تاریخ ہے، جسے 1925ء میں برطانوی حکومت نے اپنے فوجیوں کی نقل و حرکت کے لیے سستے ذریعہ سفر کی حیثیت سے متعارف کرایا۔ انگریزوں نے ریلوے لائن کی نگرانی کے لیے شاہ گئی اور لنڈی کوتل میں دو اہم قلعے اور کئی واچ سٹیشن بنوائے۔ ریلوے لائن کی تعمیر انجینئرنگ کا غیر معمولی کارنامہ ہے ۔ شروع میں ہفتے میں ایک بار عوام کے لیے ریل چلتی تھی۔ پشاور سے جمرود تک سفر کا پہلا مرحلہ آسان ہے کیونکہ یہاں زیادہ تر میدانی پہاڑی علاقہ ہے، لیکن جمرود سے آگے طورخم سرحد تک 27 میل کا سفر انتہائی دشوار گزار چڑھائی پر مبنی ہے۔ اس دوران ٹرین 34 سرنگوں سے گزرتی ہے، جن میں ایک کا مرہ تنگی سرنگ بہت طویل ہے۔ سفر کے دوران خوبصورت وادیاں بھی آتی ہیں اور سنگلاخ چٹانیں بھی۔ انتہائی بلندی کی وجہ سے یہاں ٹرین کے آگے اور پیچھے دو انجن لگائے جاتے ہیں۔
شروع میں پیدل یا خچر اور اونٹ پر سواری کے علاوہ ٹرین ہی درہ خیبر کو پار کرنے کا واحد راستہ تھا۔ درہ خیبر کے سفر کا آغاز پشاور کینٹ کے ریلوے سٹیشن سے ہوتا ہے۔ ریل یا سڑک کے راستے سنگلاخ پہاڑوں میں درہ خیبر کا سفر ایک ولولہ انگیز تجربہ ہے۔ آپ کو جگہ جگہ کندھے پر بندوق رکھے آفریدی یا شنواری نظر آئیں گے۔ صدیوں پرانے سنگلاخ نشیب و فراز پر مقامی قبائلی خچروں پر سامان لادے آج بھی رواں دواں دیکھے جاسکتے ہیں۔ راستے میں بلند و بالا دیواروں اور حفاظتی ٹاوروں میں گھرے گاؤں بھی آئیں گے جبکہ نیچے شفاف پانی کی شور مچاتی ندی بہتی ہے ،جو قبائلیوں کی جنگوں اور حملہ آوروں کے زخموں کی کہانی سناتی ہے۔ حفاظتی ٹاوروں میں موجود خاصہ دار (لیوی گارڈ ) مسافروں کے محفوظ سفر کے ضامن ہیں اور ان کی موجودگی قبائلیوں اور برطانوی حکومت کے معاہدے کی یاد دلاتی ہے۔ سفاری ٹرین کے آخری سٹیشن لنڈی خانہ سے طور خم بارڈ کا نظارہ کیا جاسکتا ہے۔ عالمی سطح پر معروف امریکا کے ٹائم میگزین کے ٹوکیو سے شائع ہونے والے ایشیا ایڈیشن میں پاکستان میں پشاور سے لنڈی کوتل تک چلنے والی ’’خیبر سفاری ٹرین‘‘ کو دنیا کی سب سے پرُوقار ٹور ریسٹ ریل گاڑیوں میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔
یہ بات میگزین کے رپورٹر پال تھیروکس نے اپنے ایک آرٹیکل میں ذاتی تجربات بیان کرتے ہوئے بتائی ،جو ٹائم میگزین کے سالانہ شمارے میں چھپی۔ مضمون نگار کے مطابق ایشیا کی پانچ پروقار گاڑیاں بالترتیب ’’خیبر سٹیم سفاری پاکستان ’’پیلس آن دی وہیلز، بھارت،فسیٹری کوئین، انڈیا‘‘ ’’ایسٹرن انیڈ اورنٹیل ایکسپریس، نیوزی لینڈ‘‘ اور ’’شنکاسن جاپان‘‘ شامل ہیں۔ خیبر سٹیم سفاری، دلچسپی کے اعتبار سے اپنی نوعیت کا منفرد سفر ہے ،جس کا اہتمام پاکستان ریلوے سرحد ٹورازم کارپوریشن اور صحرائی ٹریولز پشاور کے مشترکہ اشتراک سے کیا جاتا ہے۔ اب تک اس ٹرین سے سینکڑوں بین الاقوامی اور مقامی سیاح سفر کر چکے ہیں۔
شیخ نوید اسلم
پاکستان کی سیر گاہیں
 

%d bloggers like this: